(طلبہ اور اسکالرز کےلئے تخلیقی اور تربیتی سریز کی چودہویں نشست کا خیر النساء بہتر ہال میں کامیاب انعقاد)
دارالبحث والاعلام، لکھنؤ کی ہفت روزہ علمی، ادبی اور فکری یونٹ اللقاء الثقافى، لکھنؤ کے زیراہتمام جامعہ خدیجۃ الکبری للبنات ندوہ روڈ، لکھنؤ کے خیر النساء بہتر ہال میں 18/ مارچ 2022ء مطابق14/ شعبان المعظم 1443ھ بروز: جمعہ بوقت: 08:00 - 09:00 بجے دن طلبہ اور نوجوان اسکالرس کےلئے ایک نئی تخلیقی سیریز بعنوان:
میرا انتخاب، میری تخلیق
میری تخلیق، میرا انتخاب
کی چودھویں نشست کا آغاز محمد شاہ ظفر کی تلاوت سے ہوا۔ محمد مرغوب الرحمن ندوی (جنرل سکریٹری: اللقاء الثقافی،لکھنؤ) نے "حیات شبلی" از سید سلیمان ندوی سے علامہ شبلی نعمانی کی "ذکاوت حس" پر تحریر کردہ اقتباس پیش کیا، جس میں سوانح نگار لکھتے ہیں: "دنیا میں جو بڑے بڑے اشخاص گزرے ہیں، وہ بیش تر نہایت شدید الاحساس تھے اور اسی قوت انفعالی نے ان کو قوم کی اصلاح، مذہب کی تجدید اور علم کی خدمت پر آمادہ کیا تھا، مولانا میں بھی یہ قوت شدت کے ساتھ موجود تھی اور اسی قوت نے ان کو فطری شاعر، ایک پرجوش مقرر اور ایک قومی مصلح بنایا تھا۔ اس قوت کا اثر ان کے اخلاق و عادات کے ایک ایک جزئیات سے نمایاں ہوتا تھا، معمولی سے معمولی ناگوار واقعہ پیش آ جاتا تو ان کی پیشانی پر گرہ پڑ جاتی تھی، کوئی بات خلاف مزاج ہو جاتی تو سخت برہم ہو جاتے لیکن تھوڑی دیر کے بعد غصہ کافور ہوجاتا، سکون و اطمینان میں ذرہ برابر خلل پڑتا تو بدحواس ہو جاتے، رات کو سوتے تو گھڑی کی کھٹکھٹانے کی آواز ناگوار ہوتی، ممبئی میں مکان لیتے تو خاص طور پر اس کا لحاظ رکھتے کہ ٹریم کی کھڑکھڑاہٹ کی آواز وہاں تک نہ پہنچے"۔
• عبدالقادر محبوب ( سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے زیر مطالعہ علامہ شبلی نعمانی کی شہرۂ آفاق تصنیف "موازنۂ انیس و دبیر" سے "صنائع و بدائع" پر اپنا انتخاب پیش کرتے ہوئے کہا کہ: "اگر چہ اس سے انکار نہیں ہو سکتا ہے کہ بعض صنائع ایسے بھی ہیں کہ اگر بے تکلفی سے آجائیں تو کلام میں حسن پیدا ہو جاتا ہے، لیکن عام حالت یہ ہے کہ اکثر صنائع وبدائع شاعری اور انشاء پردازی کا دیباچۂ زوال ہیں۔ میر انیس جس زمانے میں تھے، شاعری کا مدار صنائع و بدائع پر رہ گیا تھا، لیکن وہ صنائع بدائع کو اس کے چہرے کا داغ سمجھتے تھے۔ البتہ انھوں نے مجبورا اسے گوار کیا اور جو صنعتیں محض لغو تھیں مثلاً: صنعت اہمال اور لزوم ما لا یلزم وہ نہایت کم برتیں اور جس قدر برتیں ان سے صرف یہ ثابت کرنا تھا کہ اس جولا نگاہ میں بھی وہ حریفوں سے پیچھے نہیں ہے"۔
• محمد شاہنواز (سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے تربیت اولاد کے سلسلے میں ام مفسرہ مبشرہ کھوت کا ایک رہنما مضمون "خود اعتمادی کی کمی: اسباب اور حل" بطورِ انتخاب پیش کیا۔ چنانچہ وہ لکھتی ہیں: "خود اعتمادی شخصیت کا ایک اہم پہلو ہے، جو زندگی کے مختلف مواقع پر آگے بڑھنے اور مشکلات سے لڑنے کا حوصلہ دیتا ہے، اس کے نہ ہونے سے کامیابی کی راہیں بند ہو جاتی ہیں۔ خود اعتمادی کی کمی کئی وجہوں سے ہوتی ہیں: (1) ملاقاتیوں کے سامنے بچوں کو خاموش کرنا، نظر انداز کرنا یا بولنے کا موقع نہ دینا (2) مہمانوں کے سامنے بچوں سے پیش کش پر اصرار کرنا (3) والدین اور اساتذہ کا بچوں کے درمیان موازنہ کرنا، یہ چیزیں بچوں کی ذہنی صحت کےلئے خطرناک ہیں اور خود اعتمادی کی سطح گرانے کے اسباب بھی۔ بچوں کی خود اعتمادی بڑھانے کے لئے مندرجہ ذیل تدابیر بہت کارگر ثابت ہوں گی:
(1)اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کا جذبہ پیدا کریں۔
(2)بچوں کی اصل شخصیت کو قبول کریں۔
(3) سخت تنقید سے گریز کریں۔
(4) حوصلہ افزائی خوب کریں۔
(5) اپنے کام خود کرنے کی ترغیب دیں۔
(6) بچوں میں خوبیاں تلاش کریں اور ان کی قابلیتوں کی بنا پر انھیں خواب دیں"۔
بچپن سے ہی ان نکات پر اگر عمل کیا جائے تو ہمیں پر اعتماد، جرأت مند اور شجاعت سے مالامال نسلیں ملیں گی۔
• عبداللہ مجاہد (ممبر: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے پندرہ روزہ عربی مجلہ "الرائد" سے عربی خبر کا اردو ترجمہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ: "کناڈا کی ایک عدالت نے ایران سے کہا ہے کہ وہ یوکرین کے مسافر بردار طیارہ میں ہلاک شدگان کے اہل خانہ کو 107/ ملین ڈالر کا معاوضہ ادا کرے"۔ محمد شاه ظفر (معاون سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے علامہ سید سلیمان ندوی کی مایۂ ناز تصنیف "خطبات مدراس" سے منتخب اقتباسات پیش کئے۔ سید صاحب لکھتے ہیں:
(1) ہر مذہب کے دو جز ہیں: ایک کا تعلق انسان کے دل سے ہے اور دوسرے کا انسان کے باقی جسم اور مال و دولت سے۔ پہلے کو "ایمان" اور دوسرے کو "عمل" کہتے ہیں۔ عمل کے تین حصے ہیں عبادات، معاملات اور اخلاق۔
(2) قرآن مجید الفاظ و عبارت ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت اس کی عملی تفسیر ہے۔
(3) اسلام اپنے پیغمبر کے صرف الفاظ کی نہیں بلکہ عمل اور سنت کی دعوت دیتا ہے۔
محمد عزیر (ممبر: اللقاء الثقافی، لکھنؤ ) نے "تاریخِ ہند از مولانا محمد الیاس بھٹکلی ندوی" کا مختصر تعارف کراتے ہوئے ہندوستان کا موجودہ جغرافیہ، اس کے قدیم باشندے اور مذاہب پر روشنی ڈالی۔ کتاب کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ: " اس کتاب میں ہندوستان کی پوری تاریخ موجود ہے، یہ کتاب تیرہ ابواب پر مشتمل ہے، کب کب کس کس خاندان اور کس حکمراں نے کتنے برس تک حکومت کی؟ حکومت اس کو کیسے ملی؟ کیسے چھنی؟ سب کا علم اسی کتاب کو پڑھ کر ہو جاتا ہے۔ مکمل ہندستان کے بارے میں جامع معلومات اس کتاب میں موجود ہے"۔
• محمد ذکی احسن فہمی ( معاون سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے فکرِ آخرت کے حوالے سے عربی زبان کے قادرالکلام شاعر، صحابی رسول حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کا مشہور قصیدہ "النفس تبکي علی الدنیا" مع ترجمہ پیش کیا، نمونۂ کلام پیش خدمت ہے:
"النفسُ تبكي على الدنيا وقد علمت
أن السعادة فيها ترك ما فيـــــهـا"
"نفس دنیا کے حصول میں روتا ہے، حالاں کہ وہ جانتا ہے کہ دنیاوی لوازمات سے بےرغبتی اختیار کرنا ہی سعادت ہے"
لا دار للمرءِ بعد الموت يسكنـــهـا
إلا التي كانَ قبل الموتِ بانيـــــها
موت کے بعد رہنے کا کوئی ٹھکانہ نہیں، سوائے اس گھر کے جس کو موت سے قبل بنایا گیا ہو۔
لا تركـنَنَّ إلى الدنيا وما فيهــــــــا
فالموت لا شك يُفنينا ويُفنيـــــــها
تم دنیا اور دنیا کی رنگینی میں گم نا ہو جانا، خود کو آخرت سے غافل نہ کرنا، کیوں کہ موت ہمیں اور دنیا کی ہر چیز کو فنا کرکے رہے گی۔
• راقم الحروف (مرزا ریحان بیگ) نے امام بخاری ریسرچ اکیڈمی، علی گڑھ سے اردو، ہندی میں شائع ہونے والا ہفت روزہ نشریہ "الجمعہ " سے بعنوان "شب براءت اور ہمارا طرز عمل" پیش کیا۔ مضمون میں اس رات سے متعلق غلط اعتقادات، غیر شرعی اعمال کی تردید پر کلام کیا گیا ہے۔ مضمون نگار لکھتے ہیں کہ: "بہت سے لوگ اس رات پٹاخے چھوڑتے ہیں، گھروں اور مسجدوں کو قمقموں سے سجاتے ہیں، راتوں میں ادھر ادھر دوڑتے پھرتے ہیں، موٹرسائیکلوں پر سوار ہو کر ہنگامہ کرتے ہیں، جو کسی طرح جائز نہیں۔ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ اس رات مردوں کی روحیں گھروں میں آتی ہیں اور یہ دیکھتی ہیں کہ ہمارے لئے کچھ پکایا گیا ہے یا نہیں؟ یہ بالکل غلط بات ہے، اس کی کوئی حقیقت نہیں"۔
• اخیر میں صدر محترم مفتی محمد عالمگیر ندوی (رفیق علمی: دار البحث و الاعلام، لکھنؤ) نے "شب برات کے اعمال" پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: "اس رات میں عشاء اور فجر کی پابندی کے ساتھ نفل اور تہجد بھی پڑھیں۔ قرآن مجید کی خوب تلاوت کریں۔ درود شریف کا اہتمام کریں۔ پوری امت مسلمہ اور دنیا کے تمام لوگوں کی جان ومال کی حفاظت کے لئے دعا کریں۔ اس رات میں کوئی بھی عبادت کی جا سکتی ہے۔ کوئی خاص نماز، کسی خاص سورت کی تلاوت، کوئی خاص ذکر یا دعا ثابت نہیں ہے۔ ۱۵/ شعبان کا روزہ ثابت نہیں ہے، اسی لئے اگر اس دن روزہ رکھنا ہو تو اس نیت سے رکھا جائے کہ یہ ماہ شعبان کا روزہ ہے اور پورے شعبان کے مہینے میں روزہ رکھنے کی فضیلت ہے، ساتھ ہی ہر مہینے کے ایام بیض 13،14،15 کی تاریخ کو روزہ رکھنے کی فضیلت بھی حدیث سے ثابت ہے، اسی لئے روزہ رکھ لیں، ان شاءاللہ اجر ملے گا۔ انھوں نے مزید کہا کہ: حسبِ اعلانِ سابق اللقاء الثقافی، لکھنؤ کی سالانہ انعامی نشست 25/ مارچ 2022ء مطابق 21/ شعبان المعظم 1443ھ بروز: جمعہ صبح 08:00 - 10:30 بجے دن منعقد ہو رہی ہے، جس میں سرگرم رہنے والے طلبۂ و اسکالرز کو انعامات، میڈل اور سرٹیفکٹ سے نوازا جائے گا ان شاءاللہ"۔
• راقم الحروف نے 2022/ 03/ 18 کو مسعود عالم ندوی (ڈائریکٹر: دارالبحث والاعلام، لکھنؤ) کی صدارت میں "تحفظِ ماحولیات: مسائل اور حل" پر منعقد: اللقاء الثقاقی، لکھنؤ کی مفصل روداد شرکائے نشست کے سامنے پیش کی۔ واضح رہے کہ اس علمی، ادبی، فکری، تصویری، ابلاغی اور تربیتی نشست کی نظامت اللقاء الثقافی، لکھنؤ کے سکریٹری محمد شہنواز نے کی۔ سوال وجواب اور تأثرات و تصحیح کا سیشن بھی خوب رہا، جس سے شرکاء نے بھرپور استفادہ کیا۔
• دعائے ماثورہ اور کلمات تشکر کے ساتھ نشست کا اختتام ہوا۔
بقلم: مرزا ریحان بیگ
(سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنؤ)
18/03/2022
.png)
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں