نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

تحفظِ ماحولیات: مسائل اور حل پر منعقد مذاکرۂ علمی نے فکر و فن کے نئے گوشے وا کئے: شرکائے نشست

(طلبہ اور اسکالرز کےلئے تخلیقی اور تربیتی سریز کی تیرہویں نشست کا خیر النساء بہتر ہال میں کامیاب انعقاد) 

*دارالبحث والاعلام، لکھنؤ* کی ہفت روزہ علمی، ادبی اور فکری یونٹ *اللقاء الثقافى، لکھنؤ* کے زیراہتمام جامعہ خدیجۃ الکبری للبنات ندوہ روڈ، لکھنؤ کے خیر النساء بہتر ہال میں 2022/ 03/ 11 مطابق7/ شعبان المعظم 1443ھ بروز: جمعہ بوقت: 08:00 - 09:00 بجے دن طلبہ اور نوجوان اسکالرس کےلئے ایک نئی تخلیقی سیریز بعنوان:

*میرا انتخاب، میری تخلیق*

*میری تخلیق، میرا انتخاب*

کا آغاز محمد شاہ ظفر کی تلاوت قرآن پاک "وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَاحِهَا وَادْعُوهُ خَوْفًا وَطَمَعًا" سے ہوا۔ راقم الحروف (مرزا ریحان بیگ) نے ماحولیات کی لغوی اور اصطلاحی تعریف اور Ecology و environment کے درمیان فرق کو واضح کرتے ہوئے کہاکہ: "ایکولوجی اور انوائرمنٹ کو اردو میں "ماحول" یا "ماحولیات" کے لفظ سے ہی تعبیر کیا گیا ہے، لیکن دونوں میں تھوڑا فرق ہے۔ انوائرمنٹ سے مراد کوئی بھی ماحول ہو سکتا ہے، وہ خلاء بھی ہو سکتی ہے اور زمینی فضاء بھی، لیکن "پینگوئن ڈکشنری آف سائنس (2009ء)" کے مطابق ایکولوجی سے مراد جانداروں کا ایسا مطالعہ ہے، جو اردگرد کے ماحول سے ان کے تعلق کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جاتا ہے؛ اسی وجہ سے ان دونوں کو "ماحول" کی یکساں اصطلاح سے نہیں بیان کیا جاسکتا ہے۔ پچھلے چند سالوں سے سائنسی جرائد میں Environment  کے لئے "ماحول" اور "ماحولیات"، جب کہ Ecology کےلئے "حیاتیاتی ماحول" اور "حیاتیاتی ماحولیات" کے اردو مترادفات اختیار کیے جارہے ہیں۔


محمد ذکی احسن فہمی (معاون سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے "ماحولیات کا تحفظ قرآن و سنت کی روشنی میں" کے عنوان سے اپنا مقالہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ: "تحفظِ ماحولیات کی جدید اصطلاح اگرچہ چند دہائی قبل وجود میں آئی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ آغاز اسلام سے ہی صحت مند ماحول اور اس کے تحفظ کی مکمل رہنمائی قرآن و سنت میں موجود ہے، جن میں طہارت و پاکیزگی، زندگی میں اعتدال، شجر کاری کی ترغیب، جانوروں کے تحفظ اور اس کے ساتھ حسن سلوک کے احکام قابل ذکر ہیں۔ ان اسلامی تعلیمات پر اگر انسانیت عمل پیرا ہو تو ماحولیاتی بحران کو باآسانی ختم کیا جا سکتا ہے"۔ محمد عزیر (ممبر: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) "صحت اور اسلامی تعلیمات" پر اپنے تحریر شدہ مقالہ میں لکھتے ہیں: "ایک صحت مند اور خوشگوار زندگی کے لیے حلال اور متوازن غذا، صفائی و نفاست پسندی، ورزش اور مناسب نیند بہت ضروری ہے‌۔ قوم وملت کی علمی و فکری، دینی و معاشرتی تعمیر و ترقی کے حوالے سے اچھی صحت کو برقرار رکھنے کےلئے اسلام نے بڑی تاکید کی ہے اور اس پہلو کی طرف خصوصیت کے ساتھ توجہ دلائی ہے"۔


عبدالقادر محبوب (ممبر: اللقاء الثقافی، لکھنؤ)  نے "ماحولیاتی آلودگی کے اسباب" پر اپنا تحقیقی مقالہ پیش کرتے ہوئے ماحولیاتی بحران کی تین بڑی وجوہات (1) انسانی سرگرمی (۲) جنگلات کی کٹائی (۳) کیمیکل اور کیڑے مار ادویہ کے استعمال پر اختصار کے ساتھ روشنی ڈالی اور کہا کہ: "بلاشبہ خدا کی اس خوبصورت کائنات، سر سبز و شاداب جنگلات اور لہلہاتی فصلوں کو آلودہ کرنے میں انسان کے اپنے پیدا کردہ محرکات سب سے زیادہ مؤثر ہیں۔ اس لیے ماحولیات کے تحفظ میں ہم انسانوں کو اپنی پوری ذمہ داری ادا کرنی ہوگی۔ محمد مرغوب الرحمن ندوی (جنرل سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے عربی مضمون "صحة البیئة فی الإسلام"  بطور انتخاب پیش کیا، جس میں طہارت و پاکیزگی کے حوالے سے اسلام کا نقطۂ نظر اور اس کی تعلیمات کا دلائل کے ساتھ جائزہ لیا گیا ہے۔ "مذہب اسلام نے صفائی، ستھرائی اور پاکیزگی کا غیرمعمولی اہتمام کیا ہے۔ اس حوالے سے معمولی کوتاہی کی بھی گنجائش نہیں چھوڑی ہے۔ دنیا کے کسی مذہب اور متمدن قوم کے یہاں طہارت اور صفائی کا وہ تصور نہیں ملتا جو مذہب اسلام میں ہے۔ اسلام نے جملہ عبادتوں کے لئے طہارت کو لازمی شرط قرار دیا اور اس کو نصف ایمان کہا ہے۔


عبداللہ مجاہد (ممبر: القاء الثقافی، لکھنؤ)  نے اپنے مقالہ میں متعدد ماہرینِ ماحولیات کا تعارف کراتے ہوئے ان کی نمایاں خدمات پر روشنی ڈالی، چنانچہ وہ لکھتے ہیں:  "ابو عثمان عمر بن بحر بن محبوب کنانی معروف بہ جاحظ (775-868ء) ایک نامور ماہر ماحولیات ہیں، جنھوں نے "کتاب الحیوان" کے نام سے حیوانیات کا زبردست انسائیکلوپیڈیا تیار کیا۔ مصری طبیب ابوالحسن علی بن رضوان (988-1061ء) بھی اس فن کا ایک نمایاں نام ہے۔ ان کی کتاب " دفع مضارّ الأبدان بأرض مصر" ماحولیاتی آلودگی کی روک تھام پر ایک اہم تصنیف ہے، اس کے علاوہ ابو یوسف یعقوب بن اسحاق کندی، ابوبکر محمد بن یحیی بن زکریا رازی، ابن الجزّار اور بو علی سینا  قابل ذکر ہیں۔ دور حاضر میں ماحولیاتی نظام پر اپنے تصنیفی کاموں کے لیے مشہور، امریکی ماہر حیاتیات اوجین اوڈم (Eugene Odum)، برطانوی ایتھولوجسٹ جین گڈال (jane Goodaer) اور ماہرِ طیوریات سالم علی، ہمایوں علی اور پروفیسر زاہد بیگ مرزا قابل ذکر ہیں۔


معظم علی (ممبر: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے اکمل فلاحی کا مضمون "صحت مند ماحول، صحت مند زندگی" بطور انتخاب پیش کیا۔ فلاحی صاحب لکھتے ہیں‌‌: یاد رکھیں! اگر آپ نے اپنے ماحول کو صحت مند ماحول نہیں بنایا یا اسے مضر اثرات سے نہیں بچایا تو آپ کو صحت مند ہوا، صحت مند غذا اور صاف ستھرا پانی نہیں مل سکے گا۔ آئیں ہم سب مل کر اپنے ماحول کو صحت مند ماحول بنائیں اور صحت مند زندگی گزاریں۔ عدنان شمیم (ممبر: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے بھوپال کے ممتاز ادیب و شاعر جناب کوثر صدیقی کی مشہور نظم "آلودگی مٹائیں" پیش کی۔ اس نظم میں شاعر نے سادہ اور عام فہم زبان میں آلودگی مٹانے اور ماحول کو بچانے کی تعلیم دی ہے۔ منتخب اشعار ذیل میں درج ہیں: 

  آلودگی مٹائیں

 ماحول کو بچائیں

 اجڑے ہوئے بنوں کو

 گلزار پھر بنائیں

 آؤ درخت اگائیں 

 ماحول کو بچائیں

واضح رہے کہ ادب اطفال کی بہترین تخلیق کےلئے کوثر صدیقی کو گزشتہ سال ساہتیہ اکادمی ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔

 محمد شاہنواز (سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے "ماحولیاتی بحران کی وجوہات اور حل" پر اپنا مقالہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ: "ماحولیاتی بحران کا اصل سبب ترقی کی دوڑ، پر تعیش زندگی کی ہوس، صنعت کاری کی کثرت، جنگلات کی صفائی، مہلک بارودوں کا استعمال ہے۔ لہذا ہماری ذمہ داری ہے کہ صارفیت،  فضول خرچی، تعیش پسندی کے مقابلے میں جفاکشی، فطرت سے ہم آہنگی اور انسان دوستی جیسی قدروں سے عبارت لائف اسٹائل کو فروغ دینے کے لئے باقاعدہ تحریک چلائیں۔ ‌


محمد شاہ ظفر (معاون سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنؤ)  نے علامہ سید سلیمان ندوی کی مایہ ناز تصنیف "خطبات مدراس" سے منتخب اقتباسات پیش کیے، جس میں ہمارے لئے بڑی روشنی ہے۔ سید صاحب لکھتے ہیں: 

(١)مذہب کیا چیز ہے؟ ‌اللہ اور باہم بندوں کے متعلق جو واجبات اور فرائض ہیں، ان کو تسلیم کرنا اور ادا کرنا۔

‌(٢) انسان کو اپنی سوسائٹی کے عملی نمونے کے لیے جن اجزاء کی ضرورت ہے، وہ اخلاق و عادات اور زندگانی کے طور طریقے ہیں (۳) انسانی سیرت کے بہتر اور کامل ہونے کی دلیل اس کے نیک اور معصوم اقوال، خیالات و فلسفیانہ نظریات سے نہیں بلکہ اس کے کارنامے اور اعمال سے ہیں۔ ‌محمد فضیل بیگ(ممبر: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے علمی نشستوں کی اہمیت پر اپنا عربی مضموں پیش کرتے ہوئے کہا کہ: "شخصیت کی تعمیر و ترقی اور فکر و فن کی بلندی؛ علمی نشستوں سے ہی مربوط ہے، اس لیے جس کا تعلق علمی مجالس سے زیادہ ہوگا، وہ علمی ترقیوں کا سفر زیادہ تیزی سے طے کر پائے گا"۔


‌حذیفہ مدثر ندوی (رفیقِ علمی دار البحث و الاعلام، لکھنؤ) نے بعنوان: "مسلم حکمرانوں میں دینی تنزلی: اسباب و علاج" پر اپنا مقالہ پیش کیا، جس میں فاضل اسکالر نے مسلم فرمانرواؤں کی دینی غیرت و حمیت، ثابت قدمی، علمی و انتظامی صلاحیتوں جیسے پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ: "پہلے خلیفۂ رسول حضرت ابوبکر صدیق دینی اور دنیاوی دونوں امور کے ذمہ دار تھے، لیکن انھوں نے دنیا کے مقابلے میں دین کو ہمیشہ فوقیت دی، جب کہ آج کے حکمراں مادہ پرست اور خود غرض ہیں، اپنے معمولی فائدے کے لئے وہ دین کا سودہ کر دیتے ہیں۔ ان سب کی اصل وجہ ایمانی کیفیات اور جہاد و اجتہاد کا فقدان ہے۔ ‌مفتی محمد عالمگیر ندوی (رفیقِ علمی دار البحث و الاعلام، لکھنؤ) نے شیخ یوسف القرضاوی کی تصنیف "رعایة البیئة فی الإسلام"  کا مختصر تعارف کرایا اور ماحولیات کے سلسلے میں فقہی قواعد سے استفادہ پر  پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ: "لا ضرر و لا ضرار"، "الضرر یزال"، "دفع المضرة أهم من جلب المنفعة"، "اختيار أخفّ الضررين" جیسے اہم ترین شرعی قواعد پر عمل کرنے سے ماحولیاتی آلودگی کی روک تھام کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ مقالہ نگاروں کے ورک پر اپنا تأثر پیش کرتے ہوئے مفتی صاحب نے کہا کہ:" مقالے بہت عمدہ اور سب کے سب اشاعت کے قابل ہیں"۔ 


صدر محترم مسعود عالم ندوی ( ڈائریکٹر: دار البحث والاعلام، لکھنؤ) نے جہاد و اجتہاد کی اہمیت و ضرورت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ: " حق و انصاف کی فراہمی کی راہ میں ہمہ جہت اور ہر آن کوشش کا نام جہاد ہے، جس کی بے شمار شکلیں ہیں۔ جہاد ایک سماجی ضرورت اور ایک مذہبی فریضہ ہے۔ جہاد کے ساتھ اجتہاد کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ اجتہاد در حقیقت ایک اعلی ترین علمی و دماغی عمل ہے، جس سے پیچیدہ ترین مسائل کے حل کی راہ نکلتی ہے۔ جہاد واجتہاد کے فقدان سے قومیں کمزور ہو جاتی ہیں۔ اس لئے ان دونوں صلاحیتوں کو فعال رکھنا بہت ضروری ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ میں ان دونوں جلووں کے شاندار نمونے ملتے ہیں۔ دار ارقم، سفر طائف، اذیتوں پہ صبر، مذاکرات، تعاقب، سفر ہجرت، مواخات، میثاقِ مدینہ، سرایا کی ترسیل اور تجارتی منڈی سے لے کر صفہ تک کی تنظیم کا مطالعہ؛ جہاد واجتہاد کی تفہیم و تعمیل کے حوالے سے بھی کرنا چاہیے۔ "تحفظِ ماحولیات:  مسائل اور حل" پر گفتگو کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ: " آلودگی کے خاتمے کے لیے  اپنے اپنے دائرہ میں عملی تدابیر ضروری ہیں: گھر مکان اور ہاسٹل کی صفائی، گزرگاہوں میں گندگی ڈالنے سے گریز، ٹیکنالوجی کا محدود استعمال، زندگی میں اعتدال، شجرکاری، باغبانی، مویشی پالن، ماہی پروری، صبح کی بیداری، منظم ورزش اور ان جیسی عملی کاوشوں کے ساتھ ہی ہم اپنے ماحول کو آلودگی سے پاک رکھ پائیں گے۔ اخیر میں صدر محترم نے اللقاء الثقافی، لکھنؤ کی سالانہ انعامی نشست کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا کہ: اللقاء الثقافی، لکھنؤ کی سالانہ انعامی نشست 25/ مارچ 2022ء مطابق 21/ شعبان المعظم 1443ھ بروز: جمعہ صبح 08:00 - 10:30 بجے منعقد ہو رہی ہے، جس میں سرگرم رہنے والے طلبۂ و اسکالرز کو انعامات، میڈل اور سرٹیفکٹ سے نوازا جائے گا ان شاء اللہ"۔


• راقم الحروف نے  گزشتہ ہفتے 4/ مارچ 2022 مطابق 30/ رجب المرجب 1443ھ کو منعقد: اللقاء الثقافی، لکھنؤ کی مفصل روداد پیش کی۔ واضح رہے کہ "تحفظِ ماحولیات: مسائل اور حل" پر منعقد اس مذاکرۂ علمی کی  نظامت اللقاء الثقافی، لکھنؤ کے سکریٹری محمد شہنواز  نے کی۔ سوال وجواب اور تأثرات و تصحیح کا سیشن بھی خوب رہا، جس سے شرکاء نے بھرپور استفادہ کیا۔

• دعائے ماثورہ اور کلماتِ تشکر کے ساتھ نشست کا اختتام ہوا۔

 

بقلم: مرزا ریحان بیگ

(سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنؤ)

                                                            11/03/2022

تبصرے