نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

سماجی خدمت سے قیادت کی راہیں استوار ہوتی ہیں: مسعود عالم ندوی

(طلبہ اور اسکالرز کےلئے تخلیقی اور تربیتی سریز کی بارہویں نشست کا خیر النساء بہتر ہال میں کامیاب انعقاد) 

دارالبحث والاعلام، لکھنؤ کی ہفت روزہ علمی، ادبی اور فکری یونٹ اللقاء الثقافى، لکھنؤ کے زیراہتمام جامعہ خدیجۃ الکبری للبنات ندوہ روڈ، لکھنؤ کے خیر النساء بہتر ہال میں 2022/ 03/ 04 مطابق 30/ رجب المرجب 1443ھ بروز: جمعہ بوقت: 08:00 - 09:00 بجے دن طلبہ اور نوجوان اسکالرس کےلئے ایک نئی تخلیقی سیریز بعنوان:

میرا انتخاب، میری تخلیق

میری تخلیق، میرا انتخاب

کی بارہویں نشست منعقد ہوئی، جس کا آغاز مغفور عالم کی تلاوت قرآن پاک سے ہوا۔ محمد عزیر (ممبر: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے عظیم مؤرخ، علامہ شبلی نعمانی کی مایہ ناز تصنیف "المامون" حصہ دوم سے 'بغداد' بطور انتخاب پیش کیا۔ بغداد خلافت عباسیہ کا مرکز اور تمام ممالک اسلامیہ میں اپنی مثال آپ تھا، اس شہر کی بنیاد مامون الرشید کے پردادا ابو جعفر منصور نے رکھی تھی۔ یہاں کی عالیشان عمارتوں میں ایوانِ خلافت، مسجد جامع، قصر الذہب، قصر الخلد اور قبۃ الخضرا نہایت مشہور ہیں۔ بغداد کے مقبروں میں امام موسیٰ کاظم، امام ابو حنیفہ، امام احمد بن حنبل، حضرت جنید، شیخ شبلی جیسی عظیم شخصیات آسودۂ خاک ہیں۔ بغداد کی خوشگوار آب و ہوا، دجلہ کی روانی، کشتیوں کی سیر، باغوں کی رنگینی اس وقت کے متعدد بڑے شاعروں کے کلام میں جلوہ نما نظر آتی ہیں۔ راقم الحروف( مرزا ریحان بیگ) نے عربی مضمون "حیاۃ الرسول الاجتماعیۃ“ کی تلخیص پیش کی، جس میں  حیات طیبہ پر مختصر جائزہ کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سماجی اوصاف و کمالات پر روشنی ڈالی گئی، مزید آپ کی سماجی خدمات و فرامین کو بھی بیان کیا گیا۔

    • عبدالقادر محبوب ( ممبر: اللقاء الثقافی، لکھنؤ نے "بڑے لوگ، اعلی کردار" کے مصنف، الجامعۃ الاسلامیہ شانتا پورم میں تفسیر و ادبِ عربی کے مدرس جناب اکمل فلاحی کا مضمون "صحت مند ماحول، صحت مند زندگی" کو خوبصورت انداز میں پیش کیا۔ صحت مند ماحول، صحت مند زندگی کے لئے ضروری ہے، اس لیے ہم سب مل جل کر اپنے ماحول کی اچھی طرح دیکھ بھال کریں اور اسے بہتر بنائیں۔ محمد شہنواز (سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے "پرانے چراغ حصہ سوم از مولانا ابوالحسن علی ندوی“ سے "مولانا سعید احمد صاحب اکبر آبادی رحمہ اللہ ایم اے“ کے نقوش و تاثرات کو پیش کیا، جس میں مصنفِ کتاب نے صاف گوئی و راست بیانی، سادگی و بے تکلفی کے ساتھ ممدوح کے حالات و کمالات، ان سے متعلق اپنی زندگی کے واقعات اور قلبی احساسات و تاثرات کو نہایت مؤثر اسلوب میں بیان کیا ہے۔ آپ لکھتے ہیں: مولانا سعید احمد صاحب اکبر آبادی ایم اے ایک صحیح الفکر، صحیح العقیدہ بلکہ راسخ العقیدہ اور صحیح علمی ذوق رکھنے والے عالم تھے۔ وہ قدیم و جدید علوم سے با خبر اور دونوں کے جامع تھے۔ مولانا کے انتقال سے ایک ایسی جامع شخصیت ہمارے علمی حلقوں سے اٹھ گئی، جس کا خلا عرصے تک محسوس کیا جائے گا۔

    • مغفور عالم (سکریٹری: سیمانچل اسٹوڈنٹ یونین آف انڈیا) نے "نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سماجی زندگی“ پر تحریر کیے گئے اپنے مقالے کی تلخیص پیش کی، جس میں مقالہ نگار نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ پر اجمالی نظر ڈالتے ہوئے سماج کی تعمیر و ترقی کے حوالے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے افکار و نظریات، آپ کے اقدامات، سماج کے ہر طبقہ سے آپ کے تعلقات اور اس کے اثرات کا جائزہ لیا ہے۔ سعد مرغوب ( سکریٹری: سیمانچل اسٹوڈنٹ یونین آف انڈیا) نے نثار اخلاق نیشنل لائبریری، پورنیہ، بہار کے زیر اہتمام منعقد انعامی مسابقہ کے لیے لکھا گیا مضمون "عہد نبوی کی پہلی اسلامی درسگاہ صفہ کی خصوصیات اور کردار" کی تلخیص پیش کی، مقالہ بہت عمدہ اور معیاری تھا۔ مقالہ نگار نے اس میں تعلیم و تربیت کی حقیقت، رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمی پالیسی، مدرسہ صفہ کا نصاب تعلیم،  نظام تربیت، صفہ میں ثقافتی سرگرمیاں، اصحاب صفہ کے ذریعہ علومِ َنو کی ایجاد، تعلیم کے ساتھ حصولِ معاش کی ٹریننگ، شارٹ کورسیز، اسکل ڈیولپمنٹ اور دیگر سہولیات کے علاوہ سرسری طور پر دیگر مثالی اداروں کے مقابلے میں صفہ و اصحابِ صفہ کی امتیازی خصوصیات کو اجاگر کیا ہے۔ 

    • محمد ذکی احسن فہمی نے  ڈاکٹر مہتاب امروہی کی تحریر"اردو صحافت کے مختلف اصناف" کا انتخاب پیش کیا، جس میں مضمون نگار لکھتے ہیں: اردو ادب کی مختلف اصناف کے فروغ میں صحافتی خدمات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اردو ادب کی ہر صنف کی تعمیم میں صحافت نے مرکزی رول نبھایا ہے، خاص طور پر افسانہ، داستان، غزل، ڈرامہ اور سفرنامہ وغیرہ کو بذریعہ اخبارات و رسائل عام قاری  کے مطالعے تک پہنچایا ہے۔ ادب اور صحافت میں اتنا قریبی رشتہ ہونے کے باوجود اخباری انشائیہ نگاری، خاکہ نگاری، انٹرویو و کالم نگاری وغیرہ پر کچھ زیادہ مواد فراہم نہیں ہے۔ اس مضمون میں صحافت کی مختلف اصناف پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے۔

    • شیخ عبداللہ ابرار (ممبر: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے سیرت مولانا سید محمد علی مونگیری (بانی ندوۃ العلماء) از محمد الحسنی کی تکمیل کے بعد اپنے احساسات و تأثرات  کو ایک مضمون کی شکل میں بیان کیا، جس کے اہم نکات درج ذیل ہیں: (۱) اگر دل میں کسی چیز کا شوق ہو اور وہ عمل بروقت انجام نہ پا سکے تو نا امید نہیں ہونا چاہیے۔ (۲) اصلاح نفس کے لیے کسی عارف باللہ کی صحبت ضرورت اختیار کی جائے۔ (۳) ہر مسلمان پر فرض ہے کہ وہ اسلام اور مسلمانوں پر کیے گئے شبہات و اعتراضات کو سمجھے اور اس کے تدارک کی کوشش کرے۔ عاقب سہراب نے عبد الماجد دریابادی کی آپ بیتی سے ایک منتخب اقتباس پیش کیا، جس میں مصنف دریابادی نے تذکرۂ عزیزاں کے بعد  ایک غریب و گمنام ضعیفہ کو بھی قابل ذکر سمجھا۔ یہ ان کی اناّ یعنی مرضعہ تھیں۔ ہمارے یہاں اس کو تحریر میں لانا عار سمجھا جاتا ہے، جب کہ ہر احسان کرنے والے کو ادب و تعظیم کی نگاہ سے دیکھا جانا چاہیے اور ان کے احسانات کا برملا اعتراف و اظہار بھی کیا جانا چاہیے۔

    • اخیر میں صدر محترم مسعود عالم ندوی ( ڈایریکٹر: دارالبحث و الاعلام، لکھنؤ) نے شرکائے نشست کی حوصلہ افزائی فرماتے ہوئے "تحفظِ ماحولیات: مسائل اور حل" پر جامع گفتگو کی اور اسے آئندہ ہفتے منعقد ہونے والی نشست کا موضوع قرار دیا۔ اس سے پہلے آپ نے سماجی خدمات کی جہتوں  پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ والدین کی خدمت، صلہ رحمی، مظلوموں و بے کسوں کی دادرسی، ساتھیوں کی مدد، بڑوں کی تکریم، چھوٹوں پر شفقت اور ان کی بہتر رہنمائی سے رب کریم راضی ہوتا ہے اور سماج کی نگاہ میں قدر ومنزلت بھی بڑھ جاتی ہے۔ مولانا نے مزید فرمایا کہ سماجی خدمت سے وسائل کی تسخیر میں مدد ملتی ہے اور قیادت کی راہیں بھی ہموار ہوتی ہیں۔ راقم الحروف نے  گزشتہ ہفتے 25/فروری 2022 بمطابق23/ رجب المرجب 1443ھ کو منعقد: اللقاء الثقافی، لکھنؤ کی مفصل روداد پیش کی۔ واضح رہے کہ اس علمی، ادبی، فکری، تصویری، ابلاغی اور تربیتی نشست کی نظامت اللقاء الثقافی، لکھنؤ کے جنرل سکریٹری محمد مرغوب الرحمٰن ندوی نے کی۔ سوال وجواب اور تأثرات و تصحیح کا سیشن بھی خوب رہا، جس سے شرکاء نے بھرپور استفادہ کیا۔

    • دعائے ماثورہ اور کلمات تشکر کے ساتھ نشست کا اختتام ہوا۔

 

بقلم: مرزا ریحان بیگ

(سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنؤ)

                                                           25/02/2022

تبصرے