نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

مشہور ملی و سماجی شخصیت الحاج محمد عرفان صدیقی لکھنوی نے داعی اجل کو لبیک کہا

 

مرحوم الحاج عرفان صدیقی رح  


مشہور ملی و سماجی شخصیت الحاج محمد عرفان صدیقی لکھنوی نے داعی اجل کو لبیک کہا


از قلم:مولانا مسعود عالم ندوی


 

    الحاج محمد عرفان صدیقی لکھنوی (ناظم: جامعہ خدیجۃ الکبری للبنات لکھنؤ و جنرل سیکرٹری: الفلاح ایجوکیشنل سوسائٹی، لکھنؤ) کا ایک ماہ کی شديد علالت کے بعد گذشتہ شب اسپتال میں انتقال ہوگیا. إنا لله وإنا إليه راجعون.


    مرحوم جامعۃ المومنات الاسلامیہ دوبگا لکھنؤ کے بانی مولانا محمد رضوان ندوی مرحوم کے بڑے بھائی اور ان کی علمی تحریک کے دست راست تھے، دار العلوم ندوۃ العلماء کے پرجوش حامی، حضرت مفکر اسلام مولانا علی میاں ندوی رحمۃ اللہ علیہ اور مرشد الامت حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی (صدر: آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ) کے بڑے عقیدت مند اور متعدد ملکی و عالمی اسفار: ترکی، برطانیہ اور سعودی عرب وغیرہ میں ان کے ساتھ تھے.


    تجارت سے وابستہ الحاج عرفان صدیقی مرحوم کی ولادت 1953میں محمود نگر- چوک- لکھنؤ کے ایک معروف صدیقی گھرانہ میں ہوئی، بنیادی تعلیم کے بعد اپنے والد الحاج محمد عثمان صدیقی مرحوم کے ساتھ کاروبار سے منسلک ہوئے، تقریبا 20/برس جدہ میں قیام پذیر رہے، پھر وطن آکر گوئن روڈ- امین آباد- لکھنؤ میں مقیم ہوگئے، جہاں انھوں نے بڑی فعال اور کامیاب زندگی گذاری.


   خدمت خلق، قرابت داروں اور تعلق والوں کا خیال، طلبہ، علماء اور اہل دانش کی قدردانی اور ان کےلیے تھکنا مرنا زندگی کا نمایاں عنوان رہا، اسی وجہ مرحوم کا گھر ملت کے مشاہیر کا مسکن اور طلبۂ و طالبات کا ٹھکانہ بنا رہتاتھا.


   تعلیم نسواں کے میدان میں جامعہ خدیجۃ الکبری للبنات اور جامعۃ المومنات الاسلامیہ لکھنؤ کے حوالہ سے ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھاجائے گا، بلاشبہ مرحوم کی وفات سے شہر لکھنؤ ایک فعال اور ہمدرد ملی شخصیت سے محروم ہوگیا.


  پسماندگان میں اہلیہ، تین بیٹے: عباد الرحمن صدیقی ندوى، محمد بلال صدیقی، محمد اسحاق صدیقی ندوی اور چار بیٹیاں ہیں، جو دین و ادب سے آراستہ اور اپنے نیک آباء و اجداد کے نقش قدم پر ہیں.

  بھائیوں میں محمد احسان صدیقی ندوی، محمد ریحان صدیقی، محمد نعمان صدیقی اور محمد غفران صدیقی ہیں جو اپنی تعلیمی، تجارتی اور ملی سرگرمیوں کےلیے معروف ہیں. 


  اللہ تعالی مرحوم کی مغفرت فرمائے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے اور پسماندگان کو صبر جمیل سے نوازے!

تبصرے

  1. مرحوم کی وفات ایک تعلیمی اور ملی خسارہ ہے۔ اللہ تعالی مغفرت فرمائے اور متعلقین کو صبر و استقامت عطا کرے۔ آمین

    جواب دیںحذف کریں

ایک تبصرہ شائع کریں